اِسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹو ایک نئی ابتدا، ایک نیاگھر

[Islamic Foundation of Toronto: A New Beginning, A New Home]

تحریر حمیرا سعید

ٹورانٹو میں آنے والے پہلے امیگرینٹ پاکستانیوں اور شہر میں ابتدائی اسلامی مراکز میں سے ایک مرکزکے مابین اہم تعلق ہے، اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹو ( آئی ایف ٹی)۔ یہ امتیازی سنگِ میل مسجد اور شمال مشرقی اسکاربرو میں واقع اسکول کی کہانی ہے جو پاکستانی کمیونٹی کے ٹورانٹو میں آباد ہونے، اس کے بڑھنے پھولنے اور اس کی ترقی کی بصیرت فراہم کرتی ہے۔

اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورنٹو، اسکار برو

1960ء کے ادوار، اولین پاکستانی امیگرینٹس کیلئے، مواقع اور جوش و جذبے سے بھر پور تھے۔ برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں جدید ملک پاکستان اور ہندوستان بن جانےکے بعد پیدا ہو جانے والے عدم تحفظ اور معاشی عدم استحکام سے بچ کر نکل آنے والے یہ نئےکینیڈئینز ٹورانٹو میں نئی زندگی کے آغاز کی آس و اُمید لگائے ہوئے تھے۔ بہتر معیار زندگی اور بہترمعاشی مواقع ملنےکی اُمیدوں کے ساتھ، بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ، اُردو بولنے والے پاکستانی پیشہ ور – ڈاکٹر، وکلاء اور انجینئرز، دوسرے بہت سوں کے ساتھ – اپنی نئی سرزمین پر بہت اچھی طرح آباد ہوئے اور وہ کثرت سے قابل اعتماد اور وضع دار ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ بعد میں آنے والے نوجوان ان سے آملے جو ٹورانٹو میں اعلٰی تعلیم اور ڈگری کی تعلیموں کیلئے آئے تھے، ان میں سےکچھ نے یہیں رہنےکا فیصلہ کیا، یہاں خاندان بنائے اور اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ اکٹھے مل کر انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کی بنیادیں رکھیں اور اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹوکی تعمیر و ترقی کی راہ ہموارکی۔

دیگر نئے آنے والے تارکین وطن کی طرح، نئی زندگی شروع کرنا بہت دشوار تھا اور اس کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل تھیں۔ شہر میں پہلے پاکستانیوں کیلئے، تقریباً کوئی آسرا نہیں تھا۔ ان میں سے اکثرکینیڈا آنےکیلئے اپنے خاندانوں اور دوستوں کو اپنے وطن میں چھوڑ آئے تھے۔ وہ یہاں پرخود کو الگ تھلگ اوراکیلے محسوس کر رہے تھے، انہوں نے آہستہ آہستہ شہر میں دوسرے پاکستانیوں کو تلاش کیا، ایک دوسرےکو اپنے فون نمبر دئیے اور وہ ایک دوسرے کو اختتام ہفتہ پرکھانےکی دعوتیں دیتے تھے۔ دوسرے مواقع پر،کمیونٹی آرگنائزیشنیں اور عقیدہ کے مراکز اس چھوٹی لیکن بڑھتی پھولتی کمیونٹی کے درمیان آپس میں شناسائی کی کمی کو پورا کرتے تھے۔ خاندانوں کی غیر موجودگی میں، ایسے ادارے آپس کے تعلقات کیلئے بنیادی خدمات اور ایسے طریقے فراہم کرتے تھے جن کی بہت ضرورت تھی۔

اسلام نے پاکستان کی تاریخ اور ثقافت میں ایک بنیادی کردار اداکیا ہے۔ کینیڈا میں پاکستانیوں کی اکثریت مسلمان ہے اور وہ مقامی مسجد یا اسلامی مرکز سے قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔ ایک متبرک مقام ہونے کے علاوہ جہاں لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں، ٹورانٹو میں اسلامک سینٹرز ایسی جگہ بھی فراہم کرتے ہیں جہاں پاکستانی امیگرینٹس کوئی تہوارمناسکتے، علم حاصل کرسکتے، آپس میں میل ملاقات کر سکتے، اپنی کاوشوں کے بارے میں بات چیت کر سکتے اور سکون حاصل کر سکتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ ترکیلئے مقامی مسجد دوسرا گھر ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جوکمیونٹی کو اہم دینی مبارک دنوں، تہواروں، شادیوں اور تجہیز و تکفین کیلئے اکٹھا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسلامک سینٹرز تمام عمرکے افراد کیلئے اسکولوں کاکام بھی دیتے ہیں، جہاں ایسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں جیسےکہ عربی، قرآنی تعلیمات اور اسلامی تاریخ۔ یہاں حاضری دینے والوں کو نئے لوگوں سے ملاقات کرنے اور دوستی کرنےکا موقع ملتا ہے جو اکثر تمام زندگی جاری رہتی ہے۔ یہ نئے بندھن تمام کمیونٹی کیلئے ضروری ہوتے ہیں اور یہ خاص طور پر نئے آنے والے تارکین وطن کیلئے مددگار ہیں جو یہاں کے پاکستانیوں میں اپنی شناخت کی تجدید کے امیدوار ہوتے ہیں۔

اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورنٹو، اسکار برو

اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹو کثیرالمقاصد مرکز ہونےکی ایک بہترین مثال ہے جس کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ تمام مساجد میں سے پہلی مسجد ہے جسے شہر میں قائم کیا گیا اور ٹورانٹو میں موجود پاکستانی کمیونٹی کی تاریخ کے ساتھ اس کا دیرینہ تعلق ہے۔ یہ تاریخ اس وقت شروع ہوئی جب مسلم سوسائٹی آف ٹورانٹو اور یونیورسٹی آف ٹورانٹوکی مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کچھ ممبران نے 3067 ڈنڈاس اسٹریٹ ویسٹ، کِیل اسٹریٹ کے عین مغرب میں،  واقع ایک مسجد سے علیحدہ ہونےکا فیصلہ کیا۔ ان میں سےکچھ ہائی پارک میں واقع نئی حاصل کردہ مسجدکو نقل مکانی کر رہے تھے، جبکہ دوسروں نے اورنج ہال میں اجتماع کا بندوبست کیا، جو 182 رہوڈز ایونیو، جو کہ جیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ اورکاکس ویل ایونیوکے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ شروع شروع میں یہ اورنج آرڈر جو پروٹسٹنٹ، فریٹرنل آرگنائزیشن تھی اور ٹورانٹو میں رومن کیتھولک ازم کی مخالفت کی ایک لمبی تاریخ رکھتی ہے،کی مقامی لاج کی ایک مَیل ملاقات کرنے والی جگہ تھی۔ اس نئی جگہ پر، شہر کے اندر وسیع اور متنوع مسلم کمیونٹی کیلئے دینی کام سرانجام دینے اور ثقافتی و سماجی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹو تشکیل دی گئی۔

1970ء کے ادوار میں، اس پراپرٹی کو باضابطہ طور پر تمام قومیت اورنسلی پسِ منظر رکھنے والے مسلمانوں کیلئے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ مرکزی منزل کو روحانی مذہبی متبرک مقام میں تبدیل کر دیا گیا، جبکہ اوپر والی منزل اختتام ہفتہ پرکلاسیں لگانے اورکمیونٹی کے تہواروں کیلئے اسمبلی ہال بن گئی۔ پہلے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مشرقی یورپ اور جنوب ایشیاء کے ملے جلے اصطفائی بالغ افراد شامل تھے۔ جوں جوں شرکت کے لئے آنے والے لوگ بڑھنے لگے، اس پُر عزم و سرگرم افراد کی جماعت نے پراپرٹی میں مزید توسیع اور تجدید کی۔ ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ، ایک نہایت اہم کردار جو اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹو نے اپنے ابتدائی، تشکیلی سالوں میں ادا کیا وہ نئے آنے والے تارکین وطن کیلئے آپس میں میل ملاقات اور ایک دوسرے کی مددکرنے کا بندوبست کرنا تھا۔ پاکستانی، یوگو سلاویہ کے رہنے والے، ہندوستانی، ترکش اور گیاناکے رہنے والے امیگرینٹ تمام کے تمام یہ جگہ استعمال کرتے، اکٹھے نماز اداکرتے، اکٹھے مل کر کھانا کھاتے اور ٹورانٹو میں نئی زندگی شروع کرنے میں ایک دوسرےکی مدد کرتے تھے۔

آہستہ آہستہ، اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹو اپنی رہوڈز ایونیو والے مقام سے تجاوز کر گئی جس کی عمارت میں خدمت کرنے اور شہر میں مسلمان امیگرینٹوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کیلئے جگہ کم ہو گئی تھی۔ مسجد کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور ممبران نے فیصلہ کیا کہ اب مزید وسیع اور قابل عمل جگہ تلاش کرنےکا وقت آچکا تھا۔ 1984ء تک، اسکاربرو میں مارکھم روڈ اور نگٹ ایونیو کے کونے پر 2.3 ایکڑ زمین خریدی گئی اور کینیڈا میں پہلی کثیرالمقاصد مسجدکی تعمیر شروع ہو گئی۔ یہ مسجد تین منزلہ، سفید پتھروں والی، تانبےکے گنبدکے ساتھ بنی ہوئی تھی جس کی تعمیر پر تقریباً چھ ملین ڈالر لاگت آئی، جس میں سے آدھی رقم مقامی مسلم کمیونٹی نے جمع کی۔ 1990ء تک یہ مسجد استعمال ہونا شروع ہو گئی، اور مقامی زمینی نظارے کے افق پر ایک قابل توجہ عمارت کے طور  پر اُبھری اور جس کے باعث اس کے اردگردکے علاقے پر فوری اثر پڑا۔

اُردو بولنے والے مسلمانوں اور ٹورانٹو میں نئے آنے والے مسلمانوں نے شمال مشرقی اسکاربرو میں آباد ہونا شروع کر دیا تاکہ وہ اسلامک فاؤنڈیشن کے اور اس علاقے میں رہنے والے دوسرے دوستوں اور خاندان کے قریب ہو سکیں۔ 1990ء کے دوران بڑی تعداد میں پاکستانی امیگرینٹس کینیڈا میں آئے، جن میں سے بہت سے ٹورانٹو میں آباد ہوئے۔ ان میں سےکچھ کیلئے، اسلامک فاؤنڈیشن کی موجودگی نے ان کی ہاؤسنگ کی تلاش کے انتخاب پر گہرا اثر ڈالا۔ مارکھم روڈ اور شیپرڈ ایونیو ایسٹ کے شمال مشرقی بلاک کے گھر وں اور اپارٹمینٹوں کی  ملکیت بتدریج تبدیل ہوتی گئی۔ جب پہلے پہل 1970ء میں، یہ چھوٹی سی رہائشی کمیونٹی تعمیرکی گئی تو اس میں ویسٹ انڈیز اور اٹلی کے لوگ آباد ہوئے۔ جوں جوں وقت گزرتاگیا، اس علاقہ میں جنوبی ایشیاء کے امیگرینٹ افراد کی آمد بڑھتی گئی، جس کی وجہ سے مزید ہاؤسنگ اور تعمیری منصوبہ جات شروع ہوتےگئے۔

اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورنٹو کے زیراہتمام یوتھ کانفرنس کا پوسٹر، 2012

اس وقت، اپارٹمینٹوں اورگھروں کے معنی خیز حصےکے رہائشی اُردو بولنے والے امیگرینٹس ہیں جو آئی ایف ٹی سے وابستہ ہیں۔ شمال مشرقی اسکاربرو میں پاکستانی امیگرینٹوں کی ریل پیل اور آئی ایف ٹی کی توسیع کیلئے تعمیر نے مقامی کاروبار پر بھی اثر ڈالا۔ جیسے ہی اُردو بولنے والی یہ کمیونٹی ملینئیم کی گردش کے قریب بڑھی پھولی، آئی ایف ٹی کے اردگرد جنوب ایشیائی گروسری اسٹور اور ریستوران قائم ہوئے۔ آئی ایف ٹی کا کوئی بھی ممبر تھوڑے سے فاصلےکے اندر اندر پیدل چل کر حلال گوشت خرید سکتا، بٹرچکن کی پلیٹ سے لطف اندوز ہوسکتا، اور ڈی وی ڈی پر اُردو ڈرامہ حاصل کر سکتا تھا۔

پاکستانی امیگرینٹس کی ٹورانٹو آمد اورکثیرالمقاصد آئی ایف ٹی کو قائم کرنے میں ان کے کردار، کمیونٹی کی خدمت اور دینی تنظیم نے ٹورانٹو کے ورثہ پرگہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اسکاربرو میں ایک قابل ذکر تعمیری سنگِ میل قائم کرنےکے بعد، اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹو اور پاکستانی کمیونٹی نے آبادکاری کے طریقہ ہائے کار، کاروباری ادارے اور سماجی خدمت کی تنظیمیں قائم کی ہیں۔ دیگر امیگرینٹ کمیونٹیوں کے ساتھ ساتھ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ٹورانٹو کے رہائشیوں نے شہرکو مزید مرتعش اور مشمولہ کمیونٹی بنادیا ہے جسے بہت سےلوگ اپناگھرکہنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں۔

ذرائع

http://iqra.ca/2009/humble-beginnings-%E2%80%93-the-islamic-foundation-of-toronto/
http://iqra.ca/2009/planting-the-seeds-history-of-the-islamic-foundation-of-toronto-part-2/
http://www.torontopubliclibrary.ca/detail.jsp?Entt=RDM396449&R=396449
http://www.islamicfoundation.ca/
Interview with Yousuf Khan
Interview with Shakil Akhter (June 2012)
Interview with Khlaid Usman
Interview with Mrs. Kausar Saeed

Heritage Toronto is pleased to acknowledge the support of the Government of Ontario, through the Ministry of Tourism and Culture, for this project.

This entry was posted in Heritage Diversity Stories. Bookmark the permalink.