لاہور تکہ ہاؤس ایک سفر

[Lahore Tikka House: The Journey]

تحریر حمیرا سعید

پاکستانی 1950ء کے وقتوں سے ٹورانٹو میں نقل مکانی کرکے آرہے ہیں۔ بہت سے نئے آنے والوں نے یہاں ٹورانٹو میں اُردو زبان برقرار رکھنے یا مذہبی تنظیمیں قائم کرنےکا عزم کر رکھا تھا،  جبکہ دوسروں، جیسےکہ النور سیانی (Alnoor Sayani) ہیں، نے ایسی جگہیں تشکیل دیں جہاں لوگ اپنی ثقافت پر عمل کر سکیں اور اسے سیکھ سکیں۔ لاہور تکہ ہاؤس، جو جیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ پر واقع لِٹل انڈیاکے قلب میں ایک ریستوران ہے، کے بانی مسٹر سیانی نے ایک ایسے فرد کی مثال قائم کی ہے جس نے شہر کی ثقافتی بناوٹ اور متنوع تاریخ رقم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

مسٹر سیانی کی ٹورانٹو میں نقل مکانی کرنے کی وجوہات دوسرے نئے آنے والوں سے بالکل مختلف ہیں۔ جب کہ شہر میں بہت سے پاکستانی برصغیر ہند سے آئے، یہ منتظم کاروبار براستہ یوگنڈا یہاں آئے۔ مسٹر سیانی کے والدین اس ملک میں اس وقت منتقل ہوئے جب بہت سے اُردو بولنے والے افراد نے برطانوی اثر و رسوخ والے ملکوں میں رہنےکا انتخاب کیا جیسے کہ ایسٹ افریکہ میں یوگنڈا ہے۔ تاہم، جب یوگنڈا میں سیاسی حالات خراب ہونا شروع ہوئے، تو ان کی اُردو کمیونٹیوں کے تحفظ کو خطرات لاحق ہونے میں اضافہ ہوتا گیا۔ عیدی امین کی یوگنڈا میں ڈکٹیٹر شپ کے تحت، بہت سے لوگ یوگنڈا سے نقل مکانی کر گئے۔

لاہور تکہ ریستوران، گیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ، ٹورنٹو۔

مسٹر سیانی کا خاندان انگلینڈ کو ہجرت کرگیا، جہاں انہوں نے اپنا بچپن گزارا۔ وہاں انہوں نے غذاکیلئے اپنے جوش و ولولےکے بل بوتے پر حلال گوشت کاکاروبار قائم کیا۔ پھر 1982ء میں اپنی 15 سالہ نوجوان عمر میں، انہوں نے ٹورانٹو ہجرت کرنےکا فیصلہ کیا اور اپنے سابقہ کاروباری تجربہ کے ساتھ، وہ اپنے تصوراتی ریستوران کو ایک حقیقت کا روپ دینےکیلئے روانہ ہوگئے۔ نسلی امتیاز اور امتیازی سلوک کا باقاعدگی سے سامنا کرنےکے باوجود، انہوں نے دریافت کیا کہ یہ شہر مواقع سے بھرا ہوا بھی ہے۔

1996ء میں انہوں نے بہت تھوڑی سی پرانی میزوں اور ایک درجن کرسیوں کے ساتھ جیرارڈ انڈیا بازار میں لاہور تکہ ہاؤس کھولا، جو کہ شمالی امریکہ کی بڑی جنوبی ایشیائی خریدوفروخت والی جگہوں میں سے ایک ہے جوکہ جیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ پر، گرین وُوڈ اورکاکس ویل ایونیوز کے درمیان واقع ہے۔ ٹورانٹوکا یہ حصہ 1970ء میں شہر کی جنوبی ایشیائی کمیونٹی کیلئے ایک کامیاب مرکز میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ جنوبی ایشیائی ورثے میں ضم ہونے سے پہلے، جیرارڈ کا یہ حصہ سائیکلیں مرمت کرنے والی دکانوں، الیکٹرونک اسٹوروں اور ہارڈ ویئر مراکز پر مشتمل تھا۔ تبدیلیاں اس وقت شروع ہوئیں جب ایک سینما جسے ناز تھیٹرکہا جاتا ہے، نے انڈین اور پاکستانی فلمیں دکھانا شروع کیں۔ بہت تھوڑے عرصے میں، جنوب ایشیائی لوگوں نے اس علاقے میں باقاعدگی سے آنا شروع کر دیا اور ان میں سےکچھ نےکاروبار شروع کر دئیے جیسےکہ ریستوران اورسماجی ملبوسات کےکاروبار۔ ہمسائیگی کی گلیاں اس بڑھتی پھولتی کمیونٹی کا کھلا تاثر بن گئیں۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، سٹی نے اس ثقافتی علاقے پر سرمایہ کاری شروع کر دی۔ نئی اسٹریٹ لائیٹیں لگائی گئیں، پیدل چلنے والے راستوں کو پکا کیا گیا، اور اسٹوروں کے سامنے والے حصوں کو بہتر بنایاگیا تاکہ مقامی لوگوں اور سیاحوں کیلئے جیرارڈ انڈیا بازارکو ایک پرکشش جگہ بنایا جائے۔ جوں جوں ترقی ہوتی گئی، کوئی بھی فرد ایک ہی وقت میں پاکستان جیسی جگہوں کے ثقافتی پکوان، موسیقی، فلمیں، فن، ملبوسات اور ادبی کتابیں حاصل کر سکتا تھا۔

لاہور تکہ ریستوران، گیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ، ٹورنٹو۔

مقامی تائید کے ذریعے، لاہورتکہ ہاؤس بڑھتا پھولتا گیا اورقدیم کینٹیکی فرائڈ چکن آؤٹ لیٹ میں تبدیل ہو گیا۔ آخرکار، بوسیدہ کے ایف سی آؤٹ لیٹ متاثرکن دو منزلہ، سٹکّو (stucco) بلڈنگ میں تبدیل ہوگیا جس میں سنہری محرابوں اور پیچیدہ ٹائلوں کاکام کیاگیا تھا۔ اس میں بیٹھ کر کی جانے والی زندہ دل گفتگو، موسیقی والا ماحول اور رسم ورواج کے مطابق کھانوں کی خوشبو کی وجہ سے، لاہور تکہ ہاؤس ٹورانٹو میں پاکستانی ثقافت کیلئے ایک اہم مرکز بن گیا۔ اس کے رکشے، خیمے، سیخیں اور مٹی کے تندور، اپنے سر پرستوں کوگھرکی یاد دلاتے ہیں اور انہیں حیات سے بھرپور جڑی ہوئی جڑوں کا پتہ دیتے ہیں۔ غیر پاکستانیوں کیلئے جو لاہور تکہ ہاؤس میں آتے ہیں، شہرکے منظر نامے میں یہ ایک اورعظیم فیچر ہے جہاں پرکوئی بھی فرد کھانے اور ثقافت کا لطف اٹھا سکتا ہے۔ یہ ریستوران مسٹرسیانی اور ان کے عملےکو پاکستانی تاریخ، ورثے، زبان اور شناخت کو اجاگر کرنےکا موقع فراہم کرتا ہےکہ وہ اپنی کمیونٹی کی ٹورانٹو میں موجودگی کے بارے میں آگاہی کو بڑھائیں۔

لاہور تکہ ریستوران، گیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ، ٹورنٹو۔

سیانی صاحب نے بیان کیا ہےکہ اس ریستوران کی کامیابی کا براہِ راست تعلق ٹورانٹو کا تنوع والا شہر ہونا ہے۔ وہ خودکو ٹورانٹو پر ایک فخر کرنے والا فرد سمجھتے ہیں، اور وہ کمیونٹی کی مدد کرنےکا مصمّم ارادہ رکھتے ہیں۔ سیانی صاحب سمجھتے ہیں کہ شہرکا تنوع اس کی طاقت ہے۔ جب ثقافتی گروپ اکٹھے مل کر کام کرتے ہیں، تو تصورات حقیقت میں بدل جاتے ہیں جیسےکہ ان کا تصور حقیقت میں بدلا۔

لاہور تکہ ہاؤس میں بہت سی باتیں ہیں۔ یہ ٹورانٹو میں آنے والے ایک پاکستانی امیگرینٹ کا ایک انفرادی سفر ہے، ایک ثقافتی کمیونٹی کا بڑھنا پھولنا ہے، عمارتوں اور ہمسائیگیوں کا ارتقاء ہے، اور اس بات کا مظہر ہےکہ تنوع اور امیگریشن شہرکے ورثے میں کس طرح تبدیلیاں لاتے ہیں۔ ریستوران نے مشرقی ٹورانٹو کے ارضی منظر میں طبعی تبدیلی پیداکی ہے۔ جہاں کبھی برطانیہ سے آئے ہوئے لوگ رہتے تھے اب وہ اُردو بولنے والے ہزاروں ٹورانٹو کے باسیوں کیلئے ایک ثقافتی مرکز ہے۔ مزید برآں، یہ ریستوران نامور ثقافتی اجتماع کی علامت ہے جو ٹورانٹوکی جدید شناخت کے قلب میں واقع ہے۔

ذرائع

http://www.torontolife.com/daily/daily-dish/neighbourhoods/2011/01/12/gerrard-street-east-guide-our-nine-favourite-places-along-little-india%E2%80%99s-main-drag/7/
http://www.toronto.com/blog/post/684391–lahore-tikka-house-out-of-the-trailer-into-the-tent
http://www.gerrardindiabazaar.com/
http://en.wikipedia.org/wiki/Gerrard_Street_%28Toronto%29#South_Asian_markets_and_Gerrard_India_Bazaar
Interview with Alnoor Sayani, July 2012
Interview with Shamim Ahmad, July 2012
Interview with Shahida Ahmad, July 2012

Heritage Toronto is pleased to acknowledge the support of the Government of Ontario, through the Ministry of Tourism and Culture, for this project.

This entry was posted in Heritage Diversity Stories. Bookmark the permalink.