ٹورانٹو میں پاکستانی ورثہ فیتھ اینڈ فیملی

[Pakistani Heritage in Toronto: Faith and Family]

تحریر ٹائسن براؤن (Tyson Brown)

ٹورانٹو میں اپنی آدھی صدی کی جڑوں کے ساتھ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ٹورانٹو کے رہائشیوں نے اپنے لئے شہر کے روایتی تاریخی مقام پر ایک محفوظ جگہ بنا لی ہے۔ انہوں نے یہ سب کچھ اعتقاد، خاندان، کمیونٹی اور ورثہ کے طاقتور ملاپ سے کیا ہے۔

ایگزیبیشن پیلیس پر عید کی نماز۔ MHSO کلیکشن PAK-3155-7

پاکستان کے جدید قومی مملکت بننے سے پہلے، اس خطے میں ہندو، ایرانی، اسلامی، افغانی اور دوسری ثقافتوں کے اثرات کی وجہ سے ایک طویل رسم و رواج والی تہذیب رائج تھی۔ مختلف سلسلسہ ہائے سلاطین، شہنشاہی سلطنتوں اور طاقت کے مراکز نے علاقے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا، بشمول برطانیہ اور ان کی ایسٹ انڈیا کمپنی۔ 20 ویں صدی کے شروع میں تحریک آزادی کے نتیجے میں برطانوی نو آبادیاتی استعماری سلسلہ ختم ہوا اور 1947ء میں “برطانوی انڈیا” کی بھارت اور پاکستان کی صورت میں تقسیم عمل میں آئی۔ اس تقسیم کے نتیجے میں آنے والی دہائیوں میں کشیدگیاں، اور یہاں تک کہ کھلم کھلا لڑائی جھگڑے ہوئے۔ مزید برآں، 1971ء میں خانہ جنگی کے نتیجے میں ملک کا مشرقی حصہ الگ ہو کر خود مختار عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش بن گیا۔ اس لڑائی اور باقی ماندہ کشیدگیوں نے ایسی صورت حال پیداکی جس نے بہت سے پاکستانیوں کو ہجرت پر مجبورکر دیا۔

دی کریسنٹ خبر نامہ، 23 مارچ، 1973۔ MHSO کلیکشن PAK-0207

سن 1950ء کے وقتوں میں، امیگریشن کوٹا پاکستان سے صرف 100 لوگوں کو مستقل سکونت اختیار کرنےکیلئے کینیڈا آنےکی اجازت دیتا تھا، ان میں سے محض بہت تھوڑے سے لوگ ٹورانٹو میں آئے۔ چونکہ برطانوی حکومت کے تحت علاقے میں برطانوی تعلیمی ادارے اور انگریزی زبان فروغ پاچکی تھی، اعلٰی تعلیم یافتہ، انگریزی بولنے والے پاکستانی جو اس دور میں کینیڈا میں آئے انہیں اپنے اس نئے ملک میں مختلف عناصر جانے پہچانے محسوس ہوئے۔ جب 1960ء کے وقتوں میں کوٹا سسٹم کو ختم کرکے امیگریشن کیلئے منتخب کئے جانے کا معیار پوائنٹس سسٹم پر کیا گیا تو پاکستان سے ہجرت کرکے کینیڈا مستقل سکونت کیلئے آنا نوجوانوں، اعلٰی تعلیم یافتہ، انگریزی بولنے والے پیشہ ورپاکستانیوں کیلئے ایک آپشن بن گیا جو اپنے ملک کے معاشی اور سیاسی عدم استحکام کو چھوڑ کر’مغرب’ میں روزگار کے مواقع کی تلاش میں تھے۔ موقع ملنے پر، بہت سے ٹورانٹو آگئے اور انہوں نے کام تلاش کیا یا اسکول میں داخلہ لے لیا۔

1970ء کے ادوار میں، بڑھتی ہوئی پاکستانی کمیونٹی نے شہرکے منظر پر اثر انداز ہونا شروع کر دیا۔ شائد جیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ پر ‘چھوٹا انڈیا’ سے بہترکوئی اور مثال نہ ہو، ایک ایسی کہانی جو 1929ء میں تعمیرکئے جانے والے ایسٹ وُوڈ سینما سے شروع ہوتی ہے۔ تھیٹر کے اردگرد کی آبادی اصل میں انگلش، آئرش اور سکاٹش تارکین وطن پر مشتمل تھی جو پہلی جنگ عظیم سے پہلے ٹورانٹو میں آئے تھے۔ آبادی کے دوسرے دیگر تھیٹروں کی طرح، ایسٹ وُوڈ تھیٹر پر1960ء کے ابتدائی ادوار میں بہت رونق ہوا کرتی تھی۔ جو 1966ء میں بند ہوگیا، لیکن 1972ء میں اسےگیان ناز نے کرایہ پر حاصل کر لیا، جو انڈیا سے ہجرت کرکے نئے آئے تھے، جنہوں نے وہاں ہندی، اردو، اور بنگالی زبان کی فلمیں دکھانی شروع کر دیں۔ تھوڑے ہی عرصہ میں، یہ تھیٹر انڈیا اور پاکستان کے تارکین وطن کی توجہ کا مرکز بن گیا، اور تماشائیوں سے استفادہ حاصل کرنےکیلئے نئے کاروبار اور ریستوران، جن میں لاہور تکہ بھی شامل ہے، کھولے گئے۔ 1980ء کے ابتدائی ادوار تک، جیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ کا منظر بدل چکا تھا جو ٹورانٹوکا “چھوٹا انڈیا” کے طور پر، یا جیرارڈ انڈیا بازار کے طور پر جانا پہچانا جانے لگا۔

اسی وقت کے دوران، پاکستانی مسلم کمیونٹی کی پہلے سے غالب اکثریت نے ٹورانٹو میں پہلی مسجد قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جو ہائی پارک کی ہمسائیگی میں باسٹڈ ایونیو (Bousted Avenue) پر واقع ہے جس کا نام جامی مسجد ہے۔ اس کی عمارت پہلے پہل 1910ء میں اردگردکی ہمسائیگی میں آباد اجتماعی آبادی کیلئے بطور پريسبيٹيرين چرچ (Presbyterian Church) تعمیرکی گئی تھی۔ ہمسائیگی کی آبادیاتی تبدیلی، جس میں مذہبی لگاؤ میں تبدیلی کا عنصر بھی شامل ہے،کی وجہ سے پريسبيٹيرين آبادی نے 1960ء میں نقل مکانی کرنے اور چرچ کی عمارت کو فروخت کرنےکا فیصلہ کیا۔

ناز سنٹر، گیرارڈ اسٹریٹ ایسٹ۔ MHSO کلیکشن/IND-0001

سن 1969ء میں، ٹورانٹو میں ایک چھوٹی لیکن بڑھتی پھولتی ہوئی مسلم کمیونٹی، جو مشرقی یورپ کے جزیرہ نُما بلقان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن ہیں، نے اس پراپرٹی کو خریدکر اس کرسچیئن چرچ کو شہرکے پہلے اسلامی عبادت والے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ جیسے ہی 1960ء اور 1970ء کے ادوار میں پاکستانی تارکین وطن یہاں پہنچے، ان میں سے اکثریت نے جامی مسجد جانا شروع کردیا – جو اکثریت والی کرسچیئن سوسائٹی میں ان کے اعتقاد کے اظہارکیلئے ایک اہم جگہ تھی۔

اسلامک فاؤنڈیشن آف ٹورانٹو، جو پہلے پہل شہر کے مشرقی جانب رہوڈز ایونیو (Rhodes Avenue) پر واقع تھی اور اب اسکاربرو میں مارکھم روڈ اور شیپرڈ ایونیو پر واقع ہے، اسی دور میں قائم کی گئی تھی۔ اس میں اور اسلامی عقائد اور کمیونٹی کے دوسرے مراکز میں، جن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ٹورانٹو کے رہائشی اپنا اہم کردار جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اس شہرکی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو ایک ثقافتی اور مذہبی تنوع سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ مساجد کی تعمیر، اور عقیدے کے متبرک مراکز جو نقل مکانی نہیں کرتے، بیچے یا ضائع نہیں کئے جاتے، وہ شہرکی متنوع تعمیر و ترقی کیلئے ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ مسجدیں اکثر نہ صرف مذہب کے مراکز اور اہم امتیازی نشانات ہوتی ہیں، بلکہ ایسی جگہیں بھی ہوتی ہیں جہاں اسکول اور ثقافتی مراکز بھی ہوتے ہیں۔ وہ کینیڈین ماحول میں ایمان و اعتقاد، بین الاقوامی شناختوں اور ورثہ کو بھی پیش کر سکتی ہیں۔

کینیڈین سوسائٹی کے ساتھ ہم آہنگی کیلئےمذہب کے ساتھ ساتھ، پاکستانی کمیونٹی کیلئے زبان بھی ایک نازک مسئلہ رہی ہے۔ اُردو ایک پرانی زبان ہے جس میں ادب اور شاعری کا ایک طویل عرصے سے رواج ہے جو بنیادی طور پر پاکستانی شناخت میں پیوستہ ہے۔ اس زبان کے فروغ کے ایک ذریعہ کے طور پر یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں پاکستانی طلباء نے 1970ء کے ادوار میں اُردو سوسائٹی آف کینیڈا تشکیل دی۔ ان کا مقصد کینیڈئینز اور پاکستانی ثقافت کے درمیان اسلوب ترکیبی تلاش کرنا اور ٹورانٹو میں پاکستانیوں کی ایک نئے شناختی ادراک کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں مددکرنا تھا۔ حکومت اونٹاریو اور یونیورسٹی کے اشتراک سے، 1982ء میں انہوں نے اردو پر پہلی کینیڈین کانفرنس منعقد کی، اس کامیاب کانفرنس میں پاکستان سے معززین نے شرکت کی اور شہر کی پاکستانی کمیونٹی نے اسے خوب سپورٹ کیا۔ یہ ایک مرکزی حیثیت والا لمحہ بن گیا جس نے اس ثقافتی گروپ کیلئے دستوری راستہ ہموار کیا جو اب ٹورانٹوکی ثقافتی رنگا رنگی کا ایک بنیادی حصہ بن چکا ہے۔

ذرائع

Islam in Toronto, Muslim Society of Toronto, MHSO Collection
Silvia D’Addario, Jeremy Kowalski, Marsye Lemoine and Valerie Preston, “Finding A Home: Exploring Muslim Settlement in the Toronto CMA”, Retrieved from:
http://ceris.metropolis.net/Virtual%20Library/WKPP%20List/WKPP2008/CWP68.pdf
Harald Bauder and Angelica Suorineni, ‘Toronto’s Little India, A Brief Neighbourhood History’, Retrieved from: http://digitalcommons.ryerson.ca/
Haiden Moghissi, Diaspora by Design ‘Muslim Immigrants in Canada and Beyond’, (University of Toronto Press, 2009).
M.H.K Qureshi, ‘Urdu in Canada’, Polyphony, Vol.12, (Multicultural History Society of Ontario, 1990), pg. 35-41.
http://www.multiculturalcanada.ca/Encyclopedia/A-Z/p1

Heritage Toronto is pleased to acknowledge the support of the Government of Ontario, through the Ministry of Tourism and Culture, for this project.

This entry was posted in Heritage Diversity Stories. Bookmark the permalink.